بحرین کا انقلاب کرامت/ بحران سے بھاگنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری اقدام
کوڈ: 298821 تاریخ: 2012/02/24 - 23:51مآخذ: ابنا خصوصیprint

377واں دن؛
بحرین کا انقلاب کرامت/ بحران سے بھاگنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری اقدام

آل خلیفہ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری / آل خلیفہ عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام / بچے آل خلیفہ کے غنڈوں کی جنسی اذیت و آزار کا شکار / سیاسی اسیروں کی حالت افسوسناک / بحرینی عوام اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں / انگریز روزنامہ نویس: بحرین پر آل سعود کا فوجی قبضہ ہے /بحران سے نکلنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری حربہ/ آل خلیفہ اور زہریلی گیسوں سے بحرینی عوام کو اجتماعی سزا/برطانوی صحافی:مغربی ممالک خلیفی جبروتشدد میں برابر کے شریک۔

 

 بحرین کا انقلاب کرامت/ بحران سے بھاگنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری اقدام

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عوام آل خلیفہ کی ستمگر مطلق العنانیت کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد اور آل خلیفہ اور اس کے علاقائی اور بین الاقوامی آقاؤں کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے جائز مطالبات پر اصرار کررہے ہیں۔
آج بحرینی عوام کی قومی اور اسلامی تحریک کا 377 واں دن ہے۔ بحرین کے انقلابی نوجوانوں نے اس کو "یوم حداد السماء 2" کا نام دیا گیا ہے۔
ذیل میں بحرین کے کل اور آج کے واقعات سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹیں ہیں جن کا اردو ترجمہ قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:

ــ بحرین: آل خلیفہ کے خلاف عوامی مظاہرے جاری رہے
بحرینی عوام نے جمعہ کے روز شام کے وقت بلاد القدیم سے السہلہ تک مظاہرہ کیا اور آل خلیفہ کے خلاف نعرے لگائے۔
اطلاعات کے مطابق یہ مظاہرہ "الوفاق"، "الوعد"، "الوحدوی"، "الاخاء" اور "القومی" جیسی سیاسی جماعتوں کی اپیل پر انجام پایا۔
واضح رہے کہ آل خلیفہ خاندان کی مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بحرینی عوام کی انقلابی تحریک 14 فروری 2011 کو شروع ہوئی اور اس وقت سے اب تک مظاہروں اور احتجاجی اقدامات کا سلسلہ پرامن انداز سے، بلاناغہ جاری ہے۔ بحرینی عوام ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، آزادانہ انتخابات، بیرون ملکیوں کو شہریت دے کر آبادی کا توازن بگاڑنے کی سازش کا خاتمہ چاہتے ہیں، آزاد پارلیمان اور منتخب حکومت چاہتے ہیں، ملازمتوں میں بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں کو ترجیح دینے اور مقامی لوگوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور عالمی قوانین ملک کے ہر ایک شہری کو ایک رائے دینے کا حق چاہتے ہیں، ملک میں آزاد اور خودمختار عدلیہ کا قیام چاہتے ہیں اور سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی، فوجی عدالت کی فوری بندش اور آل سعود کی افواج کا انخلا چاہتے ہیں؛ لیکن امریکہ اور یورپ اپنے ہی بنائے ہوئے اس قانون کو بحرین میں، نہیں مانتے اور آل خلیفہ کی حمایت کرتے ہیں اور آل سعود کا خاندان بھی جو شام میں نام نہاد جمہوریت کے لئے اس ملک پر فوجی چڑھائی کا خواہاں ہے، بحرین میں جمہوریت کا گلا گھونٹنے میں آل خلیفہ اور امریکہ و یورپ کا ہاتھ بٹا رہا ہے اور اس نے ایک ہزار فوجی بحرین میں بھیجنے کا اعلان کرکے 10 ہزار فوجی اس ملک میں داخل کردیئے ہیں اور یمن، شام، اردن، یمن، عراق اور پاکستان سے بھی ہزاروں تکفیریوں کو بھرتی کرکے بحرینی عوام کو کچلنے پر مامور کیا گیا ہے۔
ایک طرف سے آل خلیفہ و آل سعود اپنے مغربی آقاؤں کے مظالم ہیں اور دوسری طرف سے پرامن انقلاب ہے جو جبر و ستم کے ہزاروں حربوں کا سامنا کررہے ہیں لیکن پر عزم ہیں۔

ــ بحرین: آل خلیفہ عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام 
ڈاکٹر نبیل رجب نے بحرین میں بحران کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کا آل خلیفہ کی حکومت عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین انسانی حقوق مرکزکے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب نے کہا ہے کہ بحرین میں بحران جاری ہے، آل خلیفہ خاندان تشدد کے تمام حربے آزمانے اور بیرونی قوتوں کی امداد سے بہرہ مند ہونے کے باوجود عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام ہوچکا ہے، خلیفی خاندان طرف سے مذاکرات کی دعوت سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ اس خاندان نے جس شخص کو مذاکرات کا عمل سونپا ہے اس نے خود ہی اس ملک میں فرقہ وارانہ تصفیئے (Sectarian cleansing) کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا ہدف ملکی اکثریت کو بے دخل کرنا ہے۔
انھوں نے کہا: بحرین کی صورت حال بند گلی میں پہنچ گئی ہے، آل خلیفہ کی خاندانی حکومت نے ابھی تک عوامی مطالبات کا جواب نہیں دیا ہے، اور اس کے باوجود کہ اس کو سعودی عرب اور دیگر ممالک کی مالی اور فوجی حمایت حاصل ہے، ابھی تک بحران کو سیکورٹی اقدامات کے ذریعے قابو میں لانے سے عاجز ہے اور وہ ابھی تک عوامی تحریک کو روک نہیں سکی ہے۔ مخالفین کے ساتھ حقیقی مذاکرات کے لئے حکومت کے پاس کسی قسم کی آمادگی دکھائی نہیں دے رہی ہے تا ہم جائز مطالبات پر عوام کا اصرار، امیدبخش ہے۔
انھوں نے کہا کہ بحرین کی صورت حال بہت زیادہ بگڑ گئی ہے اور آل خلیفہ کی حکومت تمام کوششوں کے باوجود اپنے جرائم چھپانے میں ناکام رہی ہے اور اب پوری دنیا جانتی ہے کہ بحرین میں کیا ہورہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بحرین کے اسپتالوں سے زخمیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، سیاسی قیدیوں کو منظم طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے، نئے نئے ٹارچر سیل تعمیر کئے جارہے ہیں، پاکستان جیسے ممالک سے کرائے کے قاتل مسلسل برآمد کئے جارہے ہیں، ترکی سے برآمد ہونے والی بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے عوام کو کچلا جارہا ہے، لیکن قوم پامردی کا زبردست مظاہرہ کررہی ہے اور پسپائی کا تصور بھی نہیں کرتی۔
عبدالہادی الخواجہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتا پر ہیں
ڈاکٹر نبیل رجب نے گرفتار ہونے والی دینی اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ آل خلیفہ کی بدسلوکی کے بارے میں کہا: ان ہی شخصیات میں سے ایک عبدالہادی الخواجہ ہیں جو انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما ہیں اور استاد ہیں، عرب دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ان کی خدمات بالکل عیاں ہیں لیکن آل خلیفہ کے غیر انسانی مظالم و جرائم کی بنا پر گذشتہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہیں اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی ناگوار حادثہ پیش آیا یا ان کو جانی خطرہ لاحق ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری آل خلیفہ کی حکومت پر ہوگی اور ہم اس حادثے کے بعد چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انھوں نے کہا: بھوک ہڑتال کے چودہویں روز الخواجہ کی حالت خراب ہوگئی تھی اور ان کے گردوں سے خون رسنا شروع ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا: الخواجہ کو یہ ساری مصیبتیں اس لئے جھیلنی پڑ رہی ہیں کہ وہ بحرینی قوم کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، عوام کی عزت و وقار کی بحالی، ملکی دولت کی منصفانہ تقسیم، منتخب پارلیمان اور منتخب حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں اور ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

ــ بحرین: بچے آل خلیفہ کے غنڈوں کی جنسی اذیت و آزار کا شکار
بحرین کے دو خاندانوں نے اپنے دو کمسن بچوں پر آل خلیفہ کے غنڈوں کی طرف سے جنسی تشدد اور دھمکیاں دے کر اعتراف نامے پر دستخط کرانے کا انکشاف کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسیر بچوں میں سے ایک کی بہن نے ذرائع کو بتایا: "حسین عبدالعلی" اور "محمد حبیب" المالکیہ کلب جارہے تھے لیکن راستے میں جھڑپیں شروع ہوئیں تو ان دو بچوں نے حسین عبدالعلی کی خالہ کے گھر میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ آدھا گھنٹہ گذرنے کے بعد آل خلیفہ کے گماشتوں نے حسین کی خالہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان دو بچوں کو گرفتار کرکے اسکوائر-17 کے پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا، ہم نے مذکورہ پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا لیکن وہاں موجود خلیفی اہلکاروں نے بچوں کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی لیکن ہم نے کئی مرتبہ رجوع کیا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ دو بچے گرفتار کئے گئے ہیں۔ جس کے بعد بچوں سے اہل خانہ کی ملاقات کرائی گئی اور ملاقات کے دوران بچوں نے بتایا کہ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھمکیاں دے کر ایک اعتراف نامے پر دستخط کرائے گئے ہیں جن میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے دیسی ساختہ پٹرول بم تھے جو انھوں نے المالکیہ کے علاقے میں ایک درخت پھینک دیئے تھے!۔
انھوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ان دو بچوں کی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں اسی لئے انہيں فوری طور پر رہا کردیں۔
ــ بحرین: سیاسی اسیروں کی حالت افسوسناک ہے
آل خلیفہ خاندان کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل بحرینی راہنما ٹارچر، تشدد اور بدسلوکیوں نیز دھونس دھمکیوں کی وجہ سے نہایت افسوسناک صورت حال سے گذر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے سابق رکن پارلیمان "محمد جمیل الجمری" نے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل سیاسی قیدیوں ـ بالخصوص حمد بن عیسی کے مخالف راہنماؤں ـ کی صورت حال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو شدید ٹارچر، تشدد اور دھونس دھمکیوں کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا: بحرین کے عوامی راہنما ان تمام مشکلات کے باوجود عوام کو استقامت، سیاسی سرگرمیاں اور غیرمسلحانہ اور پر امن جدوجہد جاری رکھنے کی دعوت دے رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جائز حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد میں عوام کے ساتھ ہیں۔
الجمری نے کہا: گذشتہ کئی برسوں سے آل خلیفہ اور عوام کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رہا ہے اورمذاکرات کی بحالی کے لئے ہونے والی تمامتر کوششیں ناکام رہی ہيں اور اگر آل خلیفہ کا خاندان پھر بھی مذاکرات پر اصرار کرتا ہے تو ان مذآکرات کے اصولوں کو سابقہ مذاکرات سے مختلف ہونا چاہئے اور ایسے مذاکرات میں "منشور منامہ" کو مدنظر رکھنا چاہئے اور مذاکرات کے نتائج پر ریفرینڈم کا انعقاد ہونا چاہئے۔
انھوں نے انقلاب بحرین کے غیر مسلحانہ پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا: بحرین میں ایک پرامن انقلابی تحریک جاری ہے جس کے دائرے میں رہ کر آئینی بادشاہت کے خواہاں بھی اور ملک میں جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کرنے والے بھی سرگرم عمل ہیں۔
بحرین کے مستعفی رکن پارلیمان نے کہا: انقلاب بحرین ایک مسلحانہ انقلاب نہیں ہے اور اس انقلاب کے دونوں اہم دھڑے پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت عوام کو اپنی رائے اور عقیدہ ظاہر کرنے کے مواقع فراہم کریں۔
ــ بحرینی عوام اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں
فاضل عباس نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے لئے گذشتہ بدھ کے روز دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے عوامی دھرنے کا واضح پیغام یہ تھا کہ اس کو عوامی مطالبات کی طرف ہرحال میں توجہ دینی پڑے گی۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کی سیاسی جمعیت بحرین قومی ڈموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے کہا: گذشتہ بدھ کے روز (مورخہ 22فروری 2012 کو) دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے سامنے عظیم دھرنا دیا گیا اور آل خلیفہ خاندان کو اس دھرنے کا واضح پیغام یہ تھا کہ عوامی مطالبات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے اور اس کو توجہ دینے کے بغیر اس کے پاس کوئي چارہ نہیں ہے۔
انھوں نے آل خلیفہ کی خاندانی مطلق العنانیت کے خلاف تمام مخالفین کا پیغام یکسان قرار دیا اور کہا: کل رات کو مخالف جماعتوں سے اپیل کی گئی تھی کہ حکومت مخالف ریلی میں شرکت کریں جس کا عوام اور سیاسی جماعتوں نیز 14 فروری کے انقلابی الائنس نے خیر مقدم کیا اور بحرین میں سرگرم تمام گروپوں اور جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ اپنے جائز مطالبات سے پسپائی نہیں ہونی چاہئے اور ہمیں امید ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت عوام اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات کو عملی جامہ پہنائیں۔
انھوں نے کہا: بحرین کے تمام مرد اور خواتین سیاسی جماعتوں کی کال پر مظاہروں میں شرکت کرتی ہیں اور ان سب کو بخوبی معلوم ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت کے نقشے اور منصوبے کیا ہیں۔
ــ انگریز روزنامہ نویس: بحرین پر آل سعود کا فوجی قبضہ ہے
ایک برطانوی نامہ نگار نے بحرین میں آل سعود کی فورسز کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے مبصرین کی رائے ہے کہ بحرین پر آل سعود نے فوجی قبضہ کررکھا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وائن رائٹ نے ملت بحرین کے ساتھ آل خلیفہ کے تشدد آمیز طرز سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مختلف رپورٹوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی اعلانیہ پامالی جاری ہے حتی کہ آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے تشکیل یافتہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سربراہ البسیونی کی رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کو بدستور پامال کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا: فروری اور مارچ 2011 کو عوامی مظاہرے ایسے نہ تھے جن پر قابو پانے کے لئے آل خلیفہ کو سعود کی افواج کی مدد مانگنے کی ضرورت ہو لیکن موصولہ اطلاعات کے مطابق آل سعود کو بحرین میں فوجی مداخلت کی جلدی تھی اور یہ مداخلت ریاض کے اصرار کا نتیجہ تھی۔
انھوں نے کہا: برطانوی حکومت آل خلیفہ کی حکومت کو ہتھیار بیچ کر عوامی مظاہروں کو کچلنے میں مدد دے رہی ہے اور میں ایک برطانوی شہری کی حیثیت سے اس حوالے سے بحرینی عوام سے معذرت کرتا ہوں اورمیری رائے کے مطابق برطانوی حکومت برطانوی عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ اور برطانیہ ملت بحرین کو کچلنے میں آل خلیفہ حکومت کے حلیف ہیں اور اس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نہ صرف آل خلیفہ حکومت کو ہتھیار فروخت کررہے ہیں بلکہ ان دو ملکوں نے اپنے سیکورٹی ماہرین بھی بحرین بھجوادیئے ہیں۔
انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کا سابق سربراہ ایان ہنڈرسن برطانوی شہری ہے اور نہایت شرمناک جرائم جیسے: "بحرینی شہریوں کو ٹارچر کا نشانہ بنانے" میں برابر کا شریک ہے۔
ــ بحران سے فرار کرنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری حربہ
جمعیۃالوفاق کے رکن نے عوام کے خلاف آل خلیفہ کے تمام حربوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت بے بسی کے عالم میں آل سعود کے ساتھ اتحاد کے درپے ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے رکن "مجید میلاد" نے افغانستان اور بحرین میں قرآن کو نذر آتش کئے جانے کے عمل کو مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا: آل خلیفہ کے گماشتوں نے درجنوں مساجد کو شہید کیا اور ان مساجد میں قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔
انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام نے جمعہ 24 فروری کے دن بھی ہمیشہ کی طرح ریلیاں نکالیں اور مظآہرے کئے اور جمہوریت کے قیام تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کی۔
انھوں نے کہا: فوج کا استعمال اور آل خلیفہ حکومت کے تمام متبادل حربے بحرینی عوام کے انقلاب کے سامنے ناکام ہوچکے ہیں، عوام استقامت کے ناقابل تسخیر پہاڑ بن گئے ہیں اور اپنے اہداف کے حصول کے لئے قیام کے مثبت نتائج پر ان کا یقین روز بروز مستحکم سے مستحکم تر ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا: حکمران آل خلیفہ خاندان سارے کارڈز کھیل چکا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ایک کارڈ ابھی باقی ہے جو اس نے کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ کارڈ آل سعود کے ساتھ اتحاد اور کنفیڈریشن بنانے سے تعلق رکھتا ہے لیکن عوام پامردی اور استقامت کے ذریعے اس خلیفی حربے کو بھی ناکام بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ــ القطیف کے عوام نے ایک بار پھر بحرینی عوام کی حمایت کردی
القطیف کے عوام نے جمعہ کے روز آل سعود کے جبر و تشدد کے باوجود قطیف میں مظاہرہ کرکے انقلاب بحرین کی حمایت کی آل بحرین میں آل سعود اور آل خلیفہ کے جبر و تشدد کی مذمت کی اور آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل تمام اسیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ــ آل خلیفہ کی زہریلی گیس کا شکار ہوکر ایک خاتون شہید
آل خلیفہ کے گماشتوں کی زہریلی گیس کا شکار ہونے والی ایک خاتون شہید ہوگئیں اور ان کی شہادت کے ساتھ بحرین کے انقلاب کرامت کے شہداء کی تعداد 71 ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق محترمہ زینب عبدہ حسین عیسی آج صبح 10 بجے آل خلیفہ کے گماشتوں کی طرف سے استعمال ہونے والی زہریلی گیس کی وجہ سے دم گھٹ کر شہید ہوگئیں۔
شہیدہ جنوبی سہلہ کی رہائشی تھیں اور ان کی عمر 68 برس بتائی گئی ہے۔ یوں بحرین کے انقلاب کرامت کے شہیدوں کی تعداد 71 ہوگئی ہے۔
آج دوپہر ایک بجے نوجوان "حداد السماء 2" نامی مظاہرے کے لئے تیاری کرتے نظر آئے اور شام 4 بجے آل خلیفہ کے غنڈوں نے شہید زینب عیسی کے گھر پر حملہ کیا اور ان کے اہل خانہ کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے شہیدہ کے جنازے کے لئے جلوس وغیرہ کا انتظام کیا تو اس کا انجام ان کے خاندان کے لئے بہت برا ہوگا۔
پانچ بجے کے وقت بحرینی نوجوانوں نے "حداد السماء 2" کے تحت اپنے مظاہرے کے سلسلے میں آل خلیفہ کی وزآرت داخلہ کی طرف جانے والی سڑک کو بلاک کردیا اور منامہ کی سڑکوں کے اوپر دھویں کے بادل نظر آئے اور شارع بدیع میں انقلابی نوجوانوں اور آل خلیفہ کے غنڈوں کے درمیاں شدید جھڑپیں ہوئيں۔
آل خلیفہ کے منع کرنے پر 5بجکر 25 منٹ پر شہید حاجیہ زینب عبدہ عیسی کا جلوس جنازہ بلادالقدیم کے قبرستان کی طرف روانہ ہوا اور جلوس میں شریک بحرینیوں نے "یسقط حمد" اور "ہم ظلم کو تسلیم نہیں کریں گے" جیسے نعرے لگائے۔

ــ بحرین: آل خلیفہ اور زہریلی گیسوں سے بحرینی عوام کو اجتماعی سزا
بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے رکن نے آل خلیفہ کے ہاتھوں زہریلی گیس کے استعمال سے شہید ہونے والے بحرینیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ زہریلی گیسوں کے ذریعے پوری بحرینی قوم کو سزا دے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے رکن "یوسف المحافضہ" نے العالم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: کل رات کو السہلہ نامی قصبے میں ایک بزرگ خاتون "محترمہ زینب عبدہ حسین عیسی" آل خلیفہ کے گماشتوں کی زہریلی گیس کی وجہ سے دم گھٹ کر شہید ہوگئیں حالانکہ وہ کسی مظاہرے میں شریک نہیں تھیں بلکہ اپنے گھر میں تھیں کہ آل خلیفہ کے جلادوں نے زہریلی گیس کے کئی گولے ان کے گھر کے اندر پھینک دیئے اور ایک بے گناہ خاتون کو قتل کردیا۔
انھوں نے کہا: اس طرح کے حملے شب و روز جاری ہیں اور اب تک درجنوں افراد آل خلیفہ کی ان زہریلی گیسوں کا نشانہ بن کر شہید ہوچکے ہیں جو اس کو امریکہ اور یورپ سے مل رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت قوم کو "اجتماعی سزا" کی پالیسی کے تحت زہریلی گیسیں استعمال کررہی ہے جبکہ عوام جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے پر امن جدوجہد کررہے ہیں۔

برطانوی صحافی:
ــ آل خلیفہ کے جبر و تشدد میں مغربی ممالک برابر کے شریک

ایک برطانوی صحافی نے الزام لگایا کہ برطانیہ سمیت مغربی ممالک بحرینی عوام کو کچلنے میں آل خلیفہ حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق برطانوی صحافی "افشین راتانسی" (Afshin Rattansi)  نے کہا کہ مغربی دنیا بحرین جیسے ممالک میں انسانی حقوق کو اہمیت نہیں دیتی بلکہ اس کو اپنے ہتھیار فروخت کرنے کی فکر ہے۔
افشین راتانسی نے ہفتے کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے برطانوی پولیس سے برطانوی عوام کی ناراضگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور برطانیہ نے بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے اپنے خاص سیکورٹی ماہرین بحرین بھجوادیئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ آل خلیفہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے درپے ہیں اور بحرینی عوام کے خلاف استعمال ہونے والی آنسو گیس اور زہریلی گیس امریکہ اور برطانیہ سے بحرین بھجوائی جارہی ہے اور بحرینی عوام کو کچلنے میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ، آل سعود کی افواج بھی برابر کی شریک ہیں۔
راتانسی نے آل خلیفہ خاندان پر بحرین کے واقعات و حوادث کی طرف توجہ نہ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا: بحرین کے سلسلے میں ہیومین رائٹس واچ جیسی عالمی تنظیم کا کردار قابل تحسین ہے لیکن بعض بظاہر انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے بھی آل خلیفہ حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ناقابل انکار حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ اور امریکہ آل خلیفہ کے حکمرانوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں لیکن اب نوبت یہاں تک آن پہنچـی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے فرائض منصبی پر عمل کرے اور آل خلیفہ کے غیر انسانی اقدامات کی مذمت کرے۔
راتانسی نے برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ کے حالیہ دورہ مصر و سعودی عرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہیگ نے اس دورے کے دوران ان دو ملکوں کے ساتھ ہتھیاروں کے سلسلے میں معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔
انھوں نے کہا: برطانیہ عام طور پر امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرتا ہے اور وہ انسانی حقوق کی پامالی خاص طور پر بحرین میں، کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

تفصیل آرہی ہے

 



صارفین کی رائے

- If you need any kind of help plz inform me . I'm a student of computer system .engineering...Labbayak ya Hussain a.s.
.............
کیا مدد کرسکتے ہیں آپ بھائی عمران بتائیں تا کہ میں بھی آپ سے درخواست کروں اور آپ بھی مدد کریں۔ آپ کا بہت شکریہ۔
(ادارہ)



ایمیل:
نام:
پیغام:
سیکورٹی کوڈ
erfan
ABNA World Service
Englishالعربية
Françaisاردو
Españolفارسی
Русский中文
DeutschTürkçe
Azeri (cyr) Azeri (ltin)
Melayu Indonesia
বাংলা हिन्दी
Swahili Myanmar
BosanskiABP sites
  تازہ ترین عناوین