| کوڈ: 308953 | تاریخ: 2012/04/16 - 04:55 | مآخذ: ابنا خصوصی | print |
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کا انقلاب 427ویں دن بھی جاری و ساری رہا اور آل سعود کی حمایت یافتہ آل خلیفہ کی تشدد آمیز کاروائیاں جاری رہیں مگر انقلاب کرامت کرامت کے حصول تک جاری ہے؛ آل خلیفہ کے جبر سے تھک ہارنے والے عوام اب آل خلیفہ کو ہٹانے کی تحریک سے تھکنے کا نام تک نہیں لے رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ انقلاب سے پسپائی کے عوض ان کو کوئی انعام نہيں ملے گا بلکہ دشمن کی سازشین پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ جاری رہیں گی کیونکہ دشمن کو اس اندھیر نگری میں ظلمت کے پیشواؤں کی حمایت حاصل ہے جہاں کسی میں ظلمت والوں سے پوچھنے کی ہمت نہيں ہے۔
آنے والی خبروں کا تعلق ہفتے اور اتوار سے ہے اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دو دنوں کے دوران بحرین میں کیا واقعات رونما ہوئے ہیں۔
ــ بحرین: خلیفیوں نے ایک نوجوان کو گاڑی کی ٹکر مار کر شہید کردیا
ٹیبل ٹینس کے کھلاڑی اور بحرین کے قومی چیمپیئن سید محمد رضی کو دو ہفتے آل سعود کی حمایت یافتہ خلیفی جلادوں نے بکتر بند گاڑی سے کچل دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق سید محمد رضی دو ہفتے کومے میں رہنے کے بعد اتوار 15 اپریل کو زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے۔
شہید سید محمد رضی خلیفی بکتر بند گاڑی کی ٹکر کی وجہ سے شدید زخمی ہوگئے تھے اور ان کے سر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔
ٹیبل ٹینس کے قومی چیمپئن کی شہادت کی ابھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ــ بحرین: شہید احمد اسمعیل کا جنازہ دوہفتے کی تاخیر سے اٹھا
بحرین کے انقلاب کرامت کے 82 ویں شہید احمد اسمعیل دو ہفتے قبل شہید ہوئے تھے لیکن خلیفی اہلکار ان کی میت ان کے خاندان کے سپرد کرنے سے گریز کررہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق خلیفی و سعودی جلادوں کے ہاتھوں دو ہفتے قبل شہید ہونے والے شہید احمد اسمعیل کا جنازہ جمعہ 13 اپریل کو سلماباد کے علاقے میں اٹھا اور ہزاروں افراد نے ان کے جلوس جنازہ میں شرکت کی۔
جلوس جنازہ میں شرکت کرنے والے بحرینیوں نے شہید کی تصویریں اٹھائی ہوئی تھیں اور ان کے قاتلوں سے انتقام اور قصاص کا مطالبہ کررہے تھے۔
آل خلیفہ کے درندوں نے جلوس جنازہ پر حملہ کیا اور عوام کو زہریلی گیسوں اور شارٹ گن کی فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی افراد سانس کی تکالیف میں مبتلا ہوگئے۔
یادرہے کہ آل خلیفہ کے مغربی آقاؤں سے تحفے میں ملنے والی زہریلی گیسوں کے نتیجے میں اب تک چالیس سے زائد بحرینی شہید ہوگئے ہیں۔
بحرین کا پندرہ سالہ بچہ محمد احمد عبدالعزیز شہید احمد اسمعیل کے جلوس جنازہ پر آل خلیفہ کے جلادوں کے حملے میں شارٹ گن کی گولی لگ کر زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعیۃ الوفاق نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد احمد عبدالعزیز کے دل سمیت بدن کے مختلف حصے شارٹ گن کی فائرنگ سے چھرے لگ کر زخمی ہوچکے ہیں۔
محمد احمد عبدالعزیز کو سلمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہيں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد فوجی اسپتال منتقل کیا گیا۔
یاد رہے کہ سلمانیہ اسپتال کے اکثر ماہر ڈاکٹروں اور نرسوں کی گرفتاری یا برطرفی کے بعد یہ اسپتال اس وقت بیرون ملک سے آئے ہوئے غیر ماہر عملے کے کنٹرول میں ہے اور اس اسپتال میں علاج کی غرض سے داخل ہونے والے اکثر زخمی شہید ہوچکے ہيں جبکہ آل خلیفہ کے فوجی اسپتالوں کا حال کسی طور بھی اس اسپتال سے بہتر نہیں ہے۔
ــ بنی جمرہ اور منامہ میں بحرینیوں کی وسیع گرفتاریاں
آل سعود کے حمایت یافتہ خلیفی گماشتوں نے بنی جمرہ اور منامہ میں متعدد افراد کو گرفتار کرکے گھروں میں موجود سازو سامان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آل سعود کے حمایت یافتہ آل خلیفہ کے گماشتوں کی طرف سے پرامن مظاہروں کی متشددانہ سرکوبی کے ضمن میں بحرینی شہریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور آل خلیفہ کے گماشتوں نے 14 اپریل کی آدھی رات کو بنی جمرہ میں عوام کے گھروں پر حملے کرکے 17 افراد کو مظاہروں میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا اور گھروں میں موجود سازو سامان کو نقصان پہنچایا۔
آل خلیفہ کے گماشتوں نے لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کے لئے گھروں کے دروازے توڑ دیئے اور زبردستی گھروں میں داخل ہوئے۔ بنی جمرہ میں سترہ افراد گرفتار ہوئے ہیں لیکن منامہ میں گرفتار ہونے والے شہریوں کی تعداد معلوم نہيں ہوسکی ہے۔
ــ بحرین: آل خلیفہ کے مظالم ایک سال جاری رہنے کے بعد بان کی مون فکرمند ہوگئے ہیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے آل خلیفہ کی طرف سے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہروں کے سلسلے میں عوام کا حق تسلیم کیا جانا چاہئے۔
اطلاعات کے مطابق سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان مارٹن نیسرکی (Martin Nesirky) نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل بحرین میں پر امن مظاہرین پر سرکاری جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہيں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کا مظاہرے کرنے کا حق تسلیم کیا جائے۔
بان کی مون اور اقوام متحدہ گذشتہ 13 مہینوں سے بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے تشدد پر مکمل طور پر خاموش ہے اور اب گویا بان کی مون کومے سے خارج ہوئے اور اور سن کر فکرمند ہوگئے ہيں!۔
نیسرکی نے کہا کہ بحرین میں حکومت کی طرف سے تشدد کی کاروائیوں کے نتیجے میں غیرفوجی شہری بدستور زخمی ہورہے ہیں۔
جناب بان کی مون نے بحرینی حکومت کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہریوں کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے؛ بان کی مون اور ان کے ترجمان نے آل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی قاتلوں اور غنڈوں کے ہاتھوں لوگوں کی بے حرمتی، تلواروں اور نیزوں سے حملے اور لوگوں کے حقوق کی وسیع پامالی کی طرف بھی کوئی اشارہ نہيں کیا ہے اور اکثریتی عوام پر اقلیت کی ناجائز حکومت اور آل سعود کی طرف سے بحرین پر جارحیت کی طرف بھی اشارہ کرنے کی زحمت بھی نہيں اٹھائی ہے اور نہ ہی ہزاروں افراد کی بے دخلی، عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلائے جانے یا ڈاکٹروں کو زخمیوں کا علاج کرنے کی سزا دینے کی طرف بھی کوئي اشارہ نہیں کیا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ بان کی مون نے "متنازعہ فریقوں" سے کہا ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیں اور تشدد کا دامن تھامنے سے پرہیز کریں جبکہ بحرین میں عوام مظاہرے کررہے ہيں جبکہ ان کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ تشدد کے راستے پر گامزن ہوئے ہیں اور حکومت انہیں کچل رہی ہے اور اس سلسلے میں آل خلیفہ کو بیرونی ممالک کے فوجیوں اور امریکہ اور یورپ کی فوجی امداد بھی حاصل ہے جبکہ امریکہ کہ پانچواں بحری بحری بیڑا بھی بحرین میں تعینات ہے۔
ــ بحرین: مظاہرین کا مطالبہ "عبدالہادی الخواجہ کو رہا کرو
جمعہ 13 اپریل کو بحرینی عوام نے مختلف علاقوں میں مظاہرے کرکے انسانی حقوق کے شعبے کے فعال بحرینی راہنما عبدالہادی الخواجہ کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے خلیفی اذیتکدے میں دو مہینوں سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں عبدالہادی الخواجہ کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں اور بحرینی عوام نے بھی دو مہینوں سے بھوک ہڑتال کرنے والےاس عوامی راہنما کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یادر رہے کہ عبدالہادی الخواجہ دہری شہریت رکھتے ہیں اور ڈنمارک کی حکومت نے بھی آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ الخواجہ کے ڈینش شہری کی حیثیت سے اس ملک کے حوالے کیا ہے لیکن امریکہ کے حمایت خلیفی حکمرانوں نے ڈنمارک کا یہ مطالبہ مسترد کیا ہے۔
انسانی حقوق کی مختلف عالمی تنظیموں نے بھی الخواجہ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جان کی ذمہ داری آل خلیفہ حکومت پر ہوگی۔
ــ ڈنمارک: عبدالہادی الخواجہ کی حمایت میں مظاہرہ
عبدالہادی الخواجہ کی چھیاسٹھ روزہ بھوک ہڑتال اور ان کی نازک جسمانی صورت حال پر عالمی رد عمل میں شدت آرہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے راہنما عبدالہادی الخواجہ 66 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور انہیں کئی مرتبہ اسپتال منتقل کرکے جیل میں لوٹايا گیا ہے جبکہ بحرین کے سیاسی راہنما اور دنیا کی مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی رہائی کا مطالبہ کررہی ہیں اور حال ہی میں ڈنمارک کی وزیر اعظم نے بھی ان کو ڈنمارک کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ الخواجہ کے پاس بحرین کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی دہری شہریت بھی ہے۔
ڈنمارک میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر نے بحرینی شہریوں کے تحفظ کے لئے تشکیل یافتہ کمیٹی کے تعاون سے عبدالہادی الخواجہ کی رہائی کی غرض سے وسیع ریلی منعقد کی ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق اسکینڈینیویا کے ملک ڈنمارک میں شدید سردی کے باوجود ہزاروں ڈینش باشندوں نیز ڈنمارک میں مقیم بحرینیوں نے الخواجہ کی اور تمام بحرینی اپوزیشن کے راہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مظاہرہ کوپن ہیگن میں شدید بارش کے دوران انجام پایا اور 60 بین الاقوامی تنظیموں اور حکومت ڈنمارک نے الخواجہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اس ریلی کے آخر میں شرکت کنندگان نے 2 منٹ تک رک کر عبدالہادی الخواجہ کی تصویر پر مشتمل ماسک اپنے چہروں پر چڑھادیئے۔
ــ بحرین میں بدامنی، یہ ملک فارمولا 1 کار ریلی کے لئے مناسب نہیں
روزنامہ انڈیپنڈنٹ نے بحرین میں ایک شیعہ دکاندار کی دکان پر مسلح افراد کے حملے اور دکان لوٹے جانے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ بحرین میں بدامنی ہے چنانچہ اس ملک میں فارمولا 1 کار ریلی کا انعقاد ملتوی کرنا چاہئے۔
اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ ـ جو عوام پر وسیع مظالم کی وجہ سے دنیا میں بری طرح رسوا اور بدنام ہوچکا ہے، آبرو کمانے اور دنیا کو یہ جتانے کے لئے کہ اس ملک میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور یہاں کوئی عوامی تحریک نہیں چل رہی اور نہ ہی یہاں کوئی قتل ہورہا ہے، نہ ہی ہر روز مظاہرے ہورہے ہیں اور نہ ہی ملک کے عوام کے زہریلی گیسوں اور گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ـ بڑی رقوم خرچ کرکے فارمولا 1 کار ریلی اپنے ملک میں کرانے کے درپے تھا جس کی بحرینی عوام نے بھی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس ریلی کو "فارمولا بلڈ" کا نام دیا ہے۔
برطانوی روزنامے انڈیپنڈنٹ نے تاکید کی ہے کہ یہ حملہ ایسے حال میں انجام پایا ہے کہ فارمولا 1 کار ریلی کے لئے صرف 10 روز باقی ہیں اور بحرین میں تناؤ کی موجودہ کیفیت کی وجہ سے فارمولا 1 کار ریلی کو متعدد سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انڈیپنڈنٹ نے البتہ صرف دکان پر مسلح غنڈوں کے حملے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہر روز کی سرکاری دہشت گردی اور قتل و غارت اور گرفتاریوں اور بحرینی عوام کو اجتماعی طور پر مغرب کی عطا کردہ زہریلی گیسوں کا نشانہ بنائے جانے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے اور اس عوامی مطالبے کی طرف بھی اشارہ نہیں کیا ہے کہ بحرین میں فارمولا 1 ریلی بحرینی عوام اور ان کے شہیدوں کی توہین اور خونخوار خلیفی اقلیتی حکومت کی بین الاقوامی حمایت کے مترادف ہے جو بحرینی عوام کو کسی قیمت پر بھی منظور نہیں ہے اور بحرینی انقلابیوں نے اعلان کیا ہے کہ فارمولا 1 کار ریلی کی صورت میں سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان شدید ترین جھڑپوں کا امکان ہے۔
ادھر بحرینی اپوزیشن راہنماؤں نے فارمولا 1 کار ریلی میں شرکت کرنے والی متعدد ٹیموں کی رائے کی طرف اشارہ کرکے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ ریلی بحرین میں منعقد نہ ہو پائے گی۔
ــ بحرین: ویڈیو، جس نے آل خلیفہ کو رسوا کردیا
آل خلیفہ کی حکومت کل تک رہائشی اور تجارتی علاقوں پر اپنے کرائے کے غنڈوں اور سیکورٹی والوں کے حملوں کا انکار کرتی رہی تھی، لیکن ایک ویڈیو ٹیپ نے اس کی تمامتر کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک ویڈیو ٹیپ نے فاش کیا ہے کہ آل خلیفہ کے کرائے کے غنڈے سیکورٹی فورسز کے تعاون سے ایک تجارتی مرکز پر حملہ کرتے ہیں، اس کے اندر موجود تمام اشیاء کو تباہ کرتے ہيں اور اس میں لوٹ مار کا ارتکاب کرتے ہیں۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس ویڈیو ٹیپ نے آل خلیفہ کو مشکل سے دوچار کردیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ آل خلیفہ کے بعض افسر کرائے کے غنڈوں کے حملے کے وقت نہ صرف خاموش تماشائی بن کر کھڑے ہیں بلکہ غنڈوں کو ہدایت کررہے ہیں کہ وہ اس تجارتی مرکز کو کس طرح نیست و نابود کردیں۔
اس ویڈیو میں ایک خلیفی افسر نقاب پوش غنڈوں کو حکم دے رہے کہ مرکز میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے کو ناکارہ بنادیں تا کہ ان کی فوٹیج نہ بن سکے!۔
ویڈیو لنک ملاحظہ ہو:
تجارتی مرکز پر آل خلیفہ کے غنڈوں اور پولیس والوں کا حملہ
ــ برطانیہ: ملکہ کی تاج گذاری کی تقریب؛ خلیفی بادشاہ کو دعوت اور نکتہ چینیاں
برطانوی ملکہ کی تاج گذاری کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر انہیں، خلیفی بادشاہ کو دعوت دینے پر، شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق برطانوی ملکہ الیزبتھ کی تاج گذاری کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر دوسرے مطلق العنان حکمرانوں کی مانند بحرین پر مسلط خلیفی خاندان کے بادشاہ کو بھی دعوت دی گئی ہے جو گذشتہ ایک سال کے دوران بحرینی عوام کو پرتشدد کاروائیوں کا نشانہ بنانے کی وجہ سے عالمی طور پر بدنام ہوچکے ہيں اور ان کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمے دائر کئے گئے ہیں چنانچہ برطانوی اخبارات و جرائد اور بحرینی اپوزیشن نے ملکہ کے اس غیرسنجیدہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
دریں اثناء بکھنگم پیلس نے حمد بن آل خلیفہ کو دعوت دینے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ دعوت ملکوں کے ساتھ تعلقات کے اصولوں کے احترام" کی بنا پر دی گئی ہے لیکن ان کے اس اقدام پر احتجاج کرنے والوں نے کہا کہ یہ ملکوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزي ہے کیونکہ آل خلیفہ خاندان نے بحرینی عوام کا قتل عام کیا ہے اور ان کی آزادیاں کچل ڈالی ہیں۔
برطانوی سینٹ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ "ایرک اویبری Eric Avebury" نے کہا: بحرینی بادشاہ کی مانند آمر حکمرانوں کو دعوت دینے کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ بحرین کی صورت حال غیرمعمولی ہے اور اس ملک کے عوام کا قتل بدستور جاری ہے اور ہزاروں افراد کو ٹارچر کیا گیا ہے اور ہزاروں افراد جیلوں میں بند ہیں۔
انھوں نے کہا: بحرینی عوام اپنے گھروں میں زہریلی گیسوں کا نشانہ بن کر مررہے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ بحرین کی خاص صورت حال کے پیش نظر لندن ـ منامہ کے تعلقات کی نوعیت کو بدل جانا چاہئے۔
یاد رہے کہ آل خلیفہ کے گماشتے راتوں کو ـ جب لوگ اپنے گھروں میں سو رہے ہوتے ہيں اور آرام کررہے ہوتے ہیں، گلیوں کوچوں میں جاکر گھروں کے اندر زہریلی گیسوں کے گولے پھینکتے ہيں جس کی وجہ سے ابھی تک بچوں اور خواتین سمیت درجنوں افراد اب تک شہید ہوچکے ہیں۔
ــ عراق: عراقی عوام کا انقلاب بحرین کی حمایت میں مظاہرہ
بصرہ کے عوام نے ملت بحرین کی حریت پسند تحریک کی حمایت میں مظاہرہ کرکے بحرینی عوام پر ظلم و ستم کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے عوام نے 14 اپریل بروز ہفتہ، بحرینی عوام کی حریت پسندانہ تحریک کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈ اور کتبے اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج عبارتوں کے ضمن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بحرینی عوام کے جائز مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے اور حکومت کی طرف سے ظلم و جبر کا سلسلہ بند کیا جائے۔
مظاہرین نے بحرین کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور آل خلیفہ و آل سعود کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
ــ بیروت: انقلاب بحرین کے حق میں لبنانیوں کی انسانی زنجیر
بحرین کی ہیومین رائٹس سوسائٹی نے اسیر بحرینی راہنما ـ عبدالہادی الخواجہ کی حمایت میں ــ بیروت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے انسانی زنجیر کا اہتمام کیا اور اس بحرینی قانوندان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کی ہیومین رائٹس سوسائٹی نے بیروت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے ایک انسانی زنجیر تشکیل دے کر اسیر بحرینی راہنما کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اس احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں لبنانیوں نے شرکت کی اور عبدالہادی الخواجہ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عدم رہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ آل خلیفہ کا غاصب خاندان عالمی برادری سے جھوٹ بول رہا ہے۔
ــ بحرین: شہید کے خون میں زہر کا انکشاف
انقلاب کرامت کے 84 ویں شہید، شہید عبدالرسول اسمعیل کے ایک رشتہ دار نے ذرائع کو بتایا ہے کہ ان کے عزیز آل خلیفہ کے گماشتوں کے پھینکے ہوئے گیس شیل کے نتیجے ميں دم گھٹ کر شہید ہوگئے ہیں اور میڈیکل ٹیسٹ سے ان کے خون میں بڑی مقدار میں زہر کا انکشاف ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، شیخ عبدالزہرہ الکربابادی نے کہا: یہ بحرینی شہید بھی بہت سے دوسرے بحرینی شہدا کی مانند گیس کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے ہیں جبکہ انہیں شہادت سے قبل گھٹن بھرے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا: شہید کبھی بھی آل خلیفہ کے گماشتوں کے ساتھ کسی جھڑپ میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے بحرینی نوجوانوں پر خلیفیوں کے مسلسل تشدد نے ان پر برے اثرات مرتب کئے تھے۔
انھوں نے کہا: گوکہ شہید عبدالرسول 60 سال کے تھے لیکن بالکل صحتمند تھے اور کسی قسم کی بیماری میں مبتلا نہ تھے اور میڈیکل ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ ان کے خون میں زہریلے مواد کی موجودگی ان کی شہادت کا سبب بنی ہے اور ان کی شہادت کے ساتھ انقلاب بحرین کے شہداء کی تعداد 84 ہوگئی ہے۔











