| کوڈ: 302008 | تاریخ: 2012/03/11 - 20:34 | مآخذ: ابنا خصوصی | print |
ایران کے خلاف یہودی ـ سعودی تعاون! |
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات کے مطابق ویکیلیکس نے نے اسٹراٹفور کے بعض ایمیل پیغامات فاش کردیئے ہیں جن کا تعلق اپریل 2007 سے ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس ایجنسی اور صہیونیوں کی بدنام زمانہ موساد کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے اور ان کا خفیہ تعاون جاری ہے۔
ان ایمیل پیغامات کا تعلق اسٹراٹفور کے نائب سربراہ "فریڈ برٹن (Fred Burton )" اور ان کے رفقائے کار کے درمیان ایک مکالمے سے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افراد آل سعود کے ساتھ تجارتی تعاون کرتے رہتے ہیں اور بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب فریڈ برٹن نے اپنے ایک تجزیہ نگار کو ایمیل پیغام دیا جو در حقیقت ایک انفارمشین سورس تھا جس کا نام ویکی لیکس سے فاش نہیں کیا۔
اس سورس نے انکشاف کیا کہ یہودی صہیونی موساد نے آل سعود کی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایران کے خلاف خفیہ کاروائیوں میں مشاورت اور تعاون کی پیشکش کی ہے اور یہ کہ آل سعود اور صہیونیوں کا مشترکہ انٹیلجنس تعاون مرکز "قبرص" میں واقع ہے اور آل سعود ایک طرف سے جہادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے تو دوسری طرف سے اسرائیل کے ساتھ وسیع تعاون کررہا ہے اور موساد کے بعض حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں نے آل سعود کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں مشترکہ نیز ذاتی مفاہمت نامے منعقد کئے ہیں اور وہ سب الگ الگ بھی اور مشترکہ طور پر بھی ایران کے ساتھ آل سعود کے ساتھ تعاون کررہے ہیں گوکہ یہ مفاہمت نامے بظاہر تجارتی ہیں اور اس سطح پر قریبی تعاون کے بعد آل سعود اور غاصب صہیونی ریاست کے درمیان تعلقات نہایت دوستانہ ہوگئے ہیں۔
اسٹراٹفور کمپنی کا سربراہ "ڈان کایکینڈل" (Don Kuykendall) بھی بورٹن کے پروگرام میں شریک تھا جس نے یہ سوال اٹھایا کہ "کہ سعودی وزارت خارجہ اور انٹیلجنس ایجنسی کو ہم نے اپنے کرائے کے اداروں میں شامل کرلیا ہے؟"۔
کایکینڈل کہتا ہے: میری تجویز یہ ہے کہ "اسٹراٹفور کے ایک رکن "مائیک بارکس" کو سعودی عرب روانہ کرکے اس کو وہاں کرائے کے ایجنٹ بھرتی کرنے اور [القاعدہ کے اصل سربراہ اور بش خاندان کے خاندانی دوست نیز 19 سال تک امریکہ میں سعودی سفیر کے عہدے پر قابض رہنے والے] بندر بن سلطان "دوستی کو فروغ دینے" کی غرض سے سعودی عرب روانہ کیا جائے۔ ان افراد کے لئے ایک لاکھ ڈالر کی رقم ناچیز سی رقم ہے اور میرے خیال میں ۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں کایکینڈل عربوں کے بارے میں بھونڈے الفاظ ادا کرتا ہے جو قابل ذکر نہیں ہیں۔۔۔)
بورٹن کے ساتھ ایمیل کا تبادلے کا کام مکمل ہوا تو اس نے طنز آمیز لہجے میں کہا: "یا ہم ان کرائے کے ایجنٹوں کے کٹے ہوئے سر چاہتے ہیں یا پھر کچھ بھی نہیں چاہتے ہیں۔ اور ہم جس شخص کو بھی ریاض بھیجیں گے اس کا سر بھی قلم کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
تفصیلی رپورٹس کے لئے رجوع کریں:
سعودی عرب میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں میں زبردست اضافہ / اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون