| کوڈ: 306726 | تاریخ: 2012/04/06 - 05:47 | مآخذ: ابنا خصوصی | print |
شہداء کے پسماندگان اورناامیدنوجوانوں کےنام امام خامنہ ای: انتظار فرج قلبی کیفیت کا نہیں عمل کا نام ہے |
کـچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ گناہ زیادہ ہونگے تو معنای انتظار فَرَجِ اور فراخی کا حصول ممکن ہوجائے گا جبکہ یہ تو بے عملی کی ترویج ہے۔ دیکھتے ہیں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فَرَجَِهُ الشریف کے نائب برحق انتظار فَرَجِ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں:
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) فرماتے ہيں:
انتظارِ فَرَج کا مفہوم بہت وسیع اور پھیلا ہوا مفہوم ہے۔ ایک انتظار "آخری فَرَج" کا انتظار ہے؛ یعنی یہ انسان اگر دیکھتا ہے کہ دنیا کے طاغوت تاخت و تاز کررہے ہیں، لوٹ کھسوٹ اور غارت کررہے ہیں، اور بے لگام ہوکر انسانوں کے حقوں کے خلاف تجاوز اور جارحیت کررہے ہیں، تو اس کو یہ گماں نہیں کرنا چاہئے کہ دنیا کا مقدر یہی ہے؛ اس کو یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ بالآخر کوئی چارہ نہيں ہے اور اسی صورت حال کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے؛ نہیں، اس کو جان لینا چاہئے کہ یہ ایک عبوری دور ہے "للباطل جولة" (2) اور جو اس عالم اور اس عالم کی فطرت کے لئے متعین ہے وہ ہے حکومت عدل کا قیام اور یقیناً وہ حکومت آئے گی۔
انتظار فَرَج یا فراخی اور بہتری کا انتظار، ہمارے اس زمانے میں ـ جبکہ بنی نوع بشر مختلف قسم کے ظلم و ستم اور آزار و اذیت کا شکار ہے ـ انتظار کا ایک مصداق ہی ہے تا ہم انتظارِ فَرَج کے مصادیق اور بھی ہیں۔ جب ہم سے کہا جاتا ہے کہ " فَرَج کا انتظار کرو" اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف انتہائی فَرَج و فراخی کے منتظر رہو بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر بند راستہ کھولا جاسکتا ہے۔
فَرَج یہ ہے؛ فَرَج یعنی فراخی، وسعت۔ مسلمان انتظار کا درس لے کر فَرَج کو سیکھ لیتا ہے اور تعلیم حاصل کرتا ہے کہ انسانی زندگی ایسا ایک بھی بند گلی نہیں ہے جس کو کھولا نہ جاسکے اور انسان کے لئے لازم ہو کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور کہتا رہے کہ "مزید کچھ نہیں کیا جاسکتا؛ نہیں، (توجہ فرمائیں کہ:) جب انسان اپنی زندگی کی انتہا پر اتنی عظیم ظالمانہ حرکت کا مقابلہ کرسکتا ہے اور فَرَج کا سورج طلوع ہوسکتا ہے پس زندگی کی روزمرہ بندگلیوں میں بھی اس طرح کا فَرَج عین متوقع ہے۔ یہ تمام انسانوں کے لئے درسِ امید ہے؛ یہ تمام انسانوں کے لئے انتظار کا درس ہے؛ چنانچہ (پیشوائے دین نے) انتظارِ فَرَج کو برترین اور بہترین عمل قرار دیا ہے؛ ظاہر ہوتا ہے کہ انتظار ایک عمل ہے بے عملی نہیں ہے۔
یہ امر کسی پر مشتبہ نہیں ہونا چاہئے، گماں نہيں کرنا چاہئے کہ انتظار کا مفہوم یہ ہے کہ "ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں اور منتظر رہیں کہ کچھ ہوجائے [یعنی کسی کی امید میں بیٹھنا انتظار فرج نہيں ہے]، بلکہ انتظار ایک عمل ہے، ایک تیاری ہے، دل اور باطن میں محرکات کو تقویت دینا ہے، ایک نشاط، ایک حرکت ک کاري بشود. انتظار يک عمل است، يک آمادهسازي است، يک تقويت انگيزه در دل و درون است، يک نشاط و تحرک و حرکت (Dynamism and Mobility) ہے؛ یہ درحقیقت اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے جہاں اللہ کریم نے فرمایا ہے: الذين استضعفوا في الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثين» (3)
ترجمہ: اور ہم نے چاہا ہے کہ ایسے لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں (حقوق اور آزادی سے محرومی اور ظلم و استحصال کے باعث) کمزور کر دیئے گئے تھے اور انہیں رہبر و پیشوا بنا دیں اور انہیں زمین کا وارث بنادیں۔
يا "إِنَّ الأَرْضَ لِلّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ". (4)
ترجمہ: بیشک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور انجامِ خیر پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے۔
یعنی یہ کہ ملتوں اور امتوں کو ہرگز فَرَج سے ناامید نہیں ہونا چاہئے۔
(رہبر انقلاب کا خطاب 16 شعبان المعظم 1426 بمطابق 20 ستمبر 2005 بسلسلہ میلاد مسعود حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)
حوالہ جات:
1۔ بحارالانوار، ج 75، ص 208۔
2۔ تحرير المواعظ العددية، ص106. للحقّ دولةٌ و للباطل جولةٌ، حق کے لئے دولت اور حکمرانی ہے اور باطل کے لئے محض ایک مختصر سا دور ہے۔ (بر شرح غرر الحکم، آقا جمالالدين خوانسارى۔ ج5، ص25.) للباطِل جولة ثمّ يضمحلّ؛ باطل کے لئے دور ہے جس کے بعد وہ نیست و نابود ہوجائےگا۔
3۔ سورہ قصص آیت 5
4۔ سورہ اعراف آیت 128۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110