علامہ ناصر جعفری کا شام کے دارالحکومت دمشق پہنچنے پر استقبال
کوڈ: 312835 تاریخ: 2012/05/03 - 20:02مآخذ: اسلام ٹائمزprint

علامہ ناصر جعفری کا شام کے دارالحکومت دمشق پہنچنے پر استقبال

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کے جلسے میں پاکستان کی عوام کو سیاسی، اجتماعی، اقتصادی روڈ میپ دیں گے۔ اور انشاءاللہ شیعہ ہی وہ قوم ہوگی جو وطن عزیز پاکستان سے دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرے گی اور دہشتگردوں کی مدد دینے سارے نجس ہاتھ کاٹ دے گی۔ 

 علامہ ناصر جعفری کا شام کے دارالحکومت دمشق پہنچنے پر استقبال

ابنا:  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کا بیرون ملک دورہ کے سلسلے میں شام کے دارالحکومت دمشق پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا  گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے راہنماؤں دیار سیدہ زینب (س) آمد پر خوش آمدید کہی۔ اس موقع پر مومنین  ایک بڑی تعداد بھی استقبال کے لیے کھڑی تھی۔

منطقہ سیدہ زینب (س) میں موجود مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء کرام کے ساتھ ایک نشست منعقد ہوئی، جس میں سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم نے طلباء کو پاکستان کی تازہ صورتحال سے اور پاکستان میں ملت تشیع کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔

اس نشست کے دوران طلباء نے ان سے مختلف سوالات کئے اور انہوں نے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دئیے۔

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کے جلسے میں پاکستان کی عوام کو سیاسی، اجتماعی، اقتصادی روڈ میپ دیں گے۔ اور انشاءاللہ شیعہ ہی وہ قوم ہوگی جو وطن عزیز پاکستان سے دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرے گی اور دہشتگردوں کی مدد دینے سارے نجس ہاتھ کاٹ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ووٹ ہمارے ائمہ (ع) کی ہمارے پاس امانت ہے۔ ووٹ اس لیے نہیں ہے کہ گلیاں اور سڑکیں پختہ بنانے کے لیے استعمال ہو، بلکہ اس کو عظیم مقاصد اور اہداف کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ ہمارا ووٹ اس طرح استعمال ہو، تاکہ ملک سے دہشتگردی ختم ہو، تاکہ لوگوں میں شعور آئے، تاکہ مظلوموں کے حقوق پائمال نہ ہوں، تاکہ وطن عزیز سے کرپشن کا خاتمہ ہو۔

ایک سوال کے جواب میں علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ ملت اب بیدار ہو گئی ہے اور اب ملت کی ترقی کا سفر جاری رہے گا۔ شیعہ قوم بہادر قوم ہے اور ہمیشہ قربانی دی ہے اور ہر وقت قربانی کے لیے تیار رہتی ہے۔ انہوں نے کسی بھی قوم کی ترقی میں جوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، لہذا جوانوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ 

......

/169

 



صارفین کی رائے

- ہمارے نزدیک تمام علمائے کرام محترم ہیں لیکن اتحاد کے سلسلے میں کوئی اقدام ان کی طرف سے نظر نہیں آیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ علماء سب سے اس بات کو سمجھ لیں کہ جس منصب پر وہ بیٹھے ہيں وہ عوامی منصب ہے اور ان کی ذات سے اس کا پورا تعلق نہيں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ لیں اور اپنی انا پرستی، اپنے گروپ، اپنی جماعت اور اپنے منشور کو محور بنانے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنے نفس کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ایک نکاتی پروگرام کے تحت عمومی مذاکرات منعقد کریں اور سارے علماء حتی کہ تحریک اسلامی کے سربراہ اور قائد ملت علامہ ساجد نقوی صاحب اور وفاق العلماء کے لوگ سب اکٹھے ہوکر عوامی کنونش سے خطا کریں اور براہ راست عوام کے سوالات کا جواب دیں اور لوگوں کے ابہامات کو دور کریں۔ یاد رکھیں کہ موجودہ شیعہ نسل کسی کو وہائٹ چک پر دستخط کرنے کی قائل نہیں ہے اس کو کارکردگی چاہئے۔ صرف اور صرف کردار۔
دل جلا فرام سرگودھا



ایمیل:
نام:
پیغام:
سیکورٹی کوڈ
erfan
ABNA World Service
Englishالعربية
Françaisاردو
Españolفارسی
Русский中文
DeutschTürkçe
Azeri (cyr) Azeri (ltin)
Melayu Indonesia
বাংলা हिन्दी
Swahili Myanmar
BosanskiABP sites
  تازہ ترین عناوین